Description:باری علیگ کے قلم نے اس وقت شعور کی آنکھ کھولی جب برصغیر میں فرنگی اقتدار اپنے عروج پر تھا۔ بڑے بڑے بہادر حق بات کہنے سے کتراتے تھے۔ فرنگی کے خلاف لب کشائی ایک سنگین جرم تھا۔ سیاست و معیشت پر فرنگی کے پروردہ اور نسلوں سے انگریز کے وفادار چلے آنے والے انسانوں کا تسلط تھا۔ ایسے دور میں باری علیگ نے جو دیکھا اور جو محسوس کیا بے خوف نوکِ قلم پرلے آئے۔ وہ دیکھ رہے تھے کہ غلامی نے افرادِ قوم کے اذہان پر صدیوں سے محکومی کی گرد کی تہیں جما دی ہیں، کارواں لُٹ گیا ہے، کسی کو احساسِ زیاں بھی نہیں، کشتی ڈگمگا رہی ہے اور کوئی نا خدا بھی نہیں۔ باری نے یہ چیز شدّت سے محسوس کی کہ پورے ملک کی فضا پر سکوت طاری ہے۔ صحیح سمت میں کوئی مؤثر تحریک تو کیا عام لوگوں کے ذہنوں سے سوچ کی کوئی لہر بھی انگریز کے خلاف نہیں اٹھ رہی۔ باری علیگ نے اسی احساس کے تحت قلم سے جہاد شروع کیا۔ ’’کمپنی کی حکومت‘‘ کے نام سے کتاب تصنیف کی تو انھیں باغی قرار دے دیا گیا۔ حکمرانوں کے عتاب کا نشانہ بنے مگر ان کے پایۂ استقلال میں لغزش نہ آئی۔ باری نے علمی ادبی محفلوں میں اخبارات اور اپنی تصانیف میں ہر جگہ اور ہر انداز سے جہاں غیر ملکی حکمرانوں کا پردہ چاک کیا، وہاں اس بے ضمیر اور خودغرض ٹولے کی سازشوں اور گھٹیا حرکتوں کو بے نقاب کیا جو ہر دور میں حاکموں کی چوکھٹ پر اپنا سرر گڑ تا ہے۔ انھیں وطن کی لوٹ کھسوٹ اور عام لوگوں کی معاشی بدحالی بُری طرح کھٹکتی تھی۔ باری نے عوام کو شعور بخشنے اور صحیح راہ پر چلانے کے لئے جذباتی نعروں کی راہ اختیار نہیں کی بلکہ علمی و منطقی طریقہ اختیار کیا۔ سائنسی انداز تحقیق کا سہارا لیا۔ بقول ڈاکٹر عبدالسلام خورشید، ’’وہ ادیب تھا اور ادب ہی کو سیاسی بیداری کا ذریعہ بتاتا تھا۔‘‘ڈاکٹر غلام شبیرWe have made it easy for you to find a PDF Ebooks without any digging. And by having access to our ebooks online or by storing it on your computer, you have convenient answers with Company Ki Hukumat / کمپنی کی حکومت. To get started finding Company Ki Hukumat / کمپنی کی حکومت, you are right to find our website which has a comprehensive collection of manuals listed. Our library is the biggest of these that have literally hundreds of thousands of different products represented.
Description: باری علیگ کے قلم نے اس وقت شعور کی آنکھ کھولی جب برصغیر میں فرنگی اقتدار اپنے عروج پر تھا۔ بڑے بڑے بہادر حق بات کہنے سے کتراتے تھے۔ فرنگی کے خلاف لب کشائی ایک سنگین جرم تھا۔ سیاست و معیشت پر فرنگی کے پروردہ اور نسلوں سے انگریز کے وفادار چلے آنے والے انسانوں کا تسلط تھا۔ ایسے دور میں باری علیگ نے جو دیکھا اور جو محسوس کیا بے خوف نوکِ قلم پرلے آئے۔ وہ دیکھ رہے تھے کہ غلامی نے افرادِ قوم کے اذہان پر صدیوں سے محکومی کی گرد کی تہیں جما دی ہیں، کارواں لُٹ گیا ہے، کسی کو احساسِ زیاں بھی نہیں، کشتی ڈگمگا رہی ہے اور کوئی نا خدا بھی نہیں۔ باری نے یہ چیز شدّت سے محسوس کی کہ پورے ملک کی فضا پر سکوت طاری ہے۔ صحیح سمت میں کوئی مؤثر تحریک تو کیا عام لوگوں کے ذہنوں سے سوچ کی کوئی لہر بھی انگریز کے خلاف نہیں اٹھ رہی۔ باری علیگ نے اسی احساس کے تحت قلم سے جہاد شروع کیا۔ ’’کمپنی کی حکومت‘‘ کے نام سے کتاب تصنیف کی تو انھیں باغی قرار دے دیا گیا۔ حکمرانوں کے عتاب کا نشانہ بنے مگر ان کے پایۂ استقلال میں لغزش نہ آئی۔ باری نے علمی ادبی محفلوں میں اخبارات اور اپنی تصانیف میں ہر جگہ اور ہر انداز سے جہاں غیر ملکی حکمرانوں کا پردہ چاک کیا، وہاں اس بے ضمیر اور خودغرض ٹولے کی سازشوں اور گھٹیا حرکتوں کو بے نقاب کیا جو ہر دور میں حاکموں کی چوکھٹ پر اپنا سرر گڑ تا ہے۔ انھیں وطن کی لوٹ کھسوٹ اور عام لوگوں کی معاشی بدحالی بُری طرح کھٹکتی تھی۔ باری نے عوام کو شعور بخشنے اور صحیح راہ پر چلانے کے لئے جذباتی نعروں کی راہ اختیار نہیں کی بلکہ علمی و منطقی طریقہ اختیار کیا۔ سائنسی انداز تحقیق کا سہارا لیا۔ بقول ڈاکٹر عبدالسلام خورشید، ’’وہ ادیب تھا اور ادب ہی کو سیاسی بیداری کا ذریعہ بتاتا تھا۔‘‘ڈاکٹر غلام شبیرWe have made it easy for you to find a PDF Ebooks without any digging. And by having access to our ebooks online or by storing it on your computer, you have convenient answers with Company Ki Hukumat / کمپنی کی حکومت. To get started finding Company Ki Hukumat / کمپنی کی حکومت, you are right to find our website which has a comprehensive collection of manuals listed. Our library is the biggest of these that have literally hundreds of thousands of different products represented.